A short story about the feeling of loss, pain and deprivation

ویرانے میں دیوانہ

افسانہ ساحل مقبول

اول تو وہ ٹرک پہلے ہی بہت تیزی سے چلا رہا تھا، دوم اُس نے میرے اتنے نزدیک آکر ہارن بجایا کہ مجھے لگا جیسے میرے کان کے پردے پھٹ گئے ہوں اِس میں اُس کی کوئی غلطی نہیں تھی، میں ہی صبح صبح ایک مصروف شاہراہ کے بیچوں بیچ ایسے چل رہا تھا گویا یہ میرے ابا کا باغیچہ ہو اور میں اس میں سیر سپاٹے کے لئے نکلا ہوںمگر میری بھی کیا غلطی تھی؟اُن دنوں سب لوگوں کا حال میری ہی طرح تھا، سب کے سب دیوانے ہوئے پھر رہے تھے، کسی کو کسی کا خیال نہ تھا، کسی دوسرے کا خیال تو کوئی تب کرے ، جب بندے کو پہلے اپنا کوئی پتہ ٹھکانہ معلوم ہو اور اگر آدمی خود سے ہی بیگانہ ہو گیا ہوتووہ کسی کے بارے میں کیا سوچ سکتا ہے!

” آخر سب لوگوں کو یہ ہوا کیا ہے؟
میں نے خود سے ہی ایک سوال پوچھا اور ٹرک کی زد سے باہر نکلتے ہی ایک بار پھرخیالوں کے ایک گہرے سمندر میں غوطے کھانے لگا۔
مجھے یاد آیا کہ ابھی کچھ دن پہلے ہی کی بات ہے کہ یہاں قریب ہی ایک بہت خوبصورت بستی ہوا کرتی تھی، جس میں ہنستے کھیلتے لوگوں کا ایک ہجوم کئی صدیوں سے رہ رہا تھا ، نہ کسی کے ساتھ دشمنی، نہ کسی کے ساتھ بیر، محنت کش اور ایماندار لوگوں کی وجہ سے پوری بستی دور دور تک مشہور تھی، جہلم کی دوسری جانب اسی کی سیدھ میں میرا ننھیال تھا، جہاں میرا سارا بچپن گزرا تھا، میں دائیں جانب پہاڑی کے دامن میں اُس پیاری سی بستی کو کیسے بھول سکتا تھا ، جہاں میرے بہت سارے دوست بستے تھے اور ہم سب دن بھر اسی بستی کے باہر ایک کھلے میدان میں دھما چوکڑی مچایا کرتے اور رنگ برنگی کھیل کھیلا کرتے مجھے وہ مستانی سی لڑکی بھی یاد آئی، جس کا نام پتہ نہیں کیا تھا لیکن گھر والے اس کو پیار سے ببلی کہا کرتے تھے، وہ میرے بچپن کی دوست، لڑھکپن کی ساتھی اور جوانی کی دل جانی وہ بھی تو اسی گاﺅں میں رہتی تھی، جس کو مجھ سے ملنے اور بات کرنے کے بہانے کی ہر وقت تلاش رہتی تھیوہ میرے سکول سے لے کر کالج تک کاساتھ نبھانے والے ساتھی، رشید، مہتاب ، امتیاز اور ریاض سب اسی گاﺅں میں رہتے تھےریاض کا چچا گُل شیر خان گاﺅں کا سب سے معزز اور دانا انسان مانا جاتا تھاہم چھوٹے چھوٹوں کو نصیحتیں کرنا اور وقت کا صحیح استعمال کرنے کی صلاح دیتے رہنا گویا گل شیر چچا کا دین دھرم تھاتائی فاطمہ اور پھوپھی ویراں

کے لوک گیت اور کہانیاں کانوں کا سکون ہی نہیں بلکہ دلوں کا قرار بھی ہوتے تھے۔
خیالوں کی موجوں میں اور دو چار غوطے مارے تو یاد آیا کہ تھوڑا سا آگے ایک اور گاﺅں ہوتا تھا، چھوٹے چھوٹے یک منزلہ مکان، مکانوں میں ہنستے کھیلتے کنبے اور بستی کے چاروں طرف دور دور تک پھیلی ہوئی زرخیز زمین، زمین میں سرسبز فصلیں، مکئی، دھان ، میوئے کے باغات اور سبزی کی باڑیاںبستی کے دیالو اور سخی لوگ، لوگوں کی سخاوت کا یہ عالم کہ خود اتنا نہ کھاتے، جتنا محتاجوں اور غریبوں میں بانٹ دیتےشہروں میں جتنی سبزیاں ایک پورا محلہ مہنگے داموں خرید کر لاتا ہے، اس سے زیادہ یہاں کے لوگ مویشیوں کو کھلا دیتے میوﺅں اور فصلوں کو یہ لوگ اللہ کی نعمت سمجھتے اور اس کے کاروبار کو گناہ اور وہ دوسری طرف ایک خالی میدان میں موجود بانگڑیوں کی بستی بھی یاد آئی ، جس میں تقریباً ۰۵ فقیروں جیسے کنبے پچھلی کئی دہائیوں سے عارضی خیموں میں بسیرا کر رہے تھے۔ ان لوگوں کا اصل وطن کسی کو معلوم نہ تھامگر ان کے بڑے بزرگ کہا کرتے تھے کہ وہ بھی کسی زمانے میں اچھے خاصے اور آباد لوگ ہوا کرتے تھے اور کسی جنگ کی وجہ سے اُجڑ کر ادھر بھاگ آئے تھے۔ اُن میں سے کچھ لوگ جھاڑ فروخت کرتے اور کچھ ایک جوتے، چپل کی مرمت کرکے گزارہ کرتے تھے۔ مقامی لوگوں میں ان کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور تھیں، جو وہ اپنے بچوں کو سُنا سُنا کر ڈرایا کرتے اور ان سے دور رہنے کی تاکید کرتے، لوگوں

کی نفرت اور دھتکار کویہ غریب خاموشی سے پی جاتے اور چپ چاپ زندگی بسر کرتے رہتے
جہلم کے اسی پر سکون کنارے، دس، بارہ میل کی دوری پر کچھ بڑے کارخانے بھی ہوا کرتے تھے، ایک گیس پلانٹ، ایک آٹے کی مل، ایک نیا شاپنگ کمپلیکس، ایک پُرانی سبزی منڈی اور ایک ٹانگہ اڈہاس جگہ گھوڑوں کے علاوہ ضائع شدہ سبزیاں کھانے والے مویشیوں کے گوبر کی وجہ سے اتنی بدبو ہوتی کہ یہاں سے گزرنا بھی دشوار ہوجاتا لیکن اس کے باوجود دور دراز سے لوگ یہاں تازہ سبزیاں اور میوے خریدنے چلے آتے ۔
جہلم کے کنارے کنارے ویری ناگ سے اوڑی تک کی یہ شاہراہ، شاہراہ پر آباد بہت ساری بستیاں، بستیوں کی رنگ و رونق، شور شرابہ، لوگوں کا ہنسنا کھیلنا ، اُچھل کود اور اس میں مست لوگوں کی انسانیت، ایمانداری اور دیانتداری ساری دُنیا میں مشہور تھی لیکن کچھ عرصے سے یہاں کچھ ایسی ہوا چلی کہ ان لوگوں کو گویا مرنا جینا ہی بھول گیا تھا، کافی عرصے سے اس بستی کے ہر کام میں کاروبار اور تجارت شامل ہوگیا تھا، بستی کے لوگ پیار ، محبت، مہر وو وفاءاور ہمدردی و انسانیت پر سود و زیاں ، نفع ، نقصان اور حرص و حسد کو زیادہ عزیز سمجھنے لگے تھےان مدہوش انسانوں کی لاپرواہیوں سے جہلم کا میٹھا اور صاف پانی اس قدر میلا ہوگیا کہ اب اسے حیوان بھی پینا پسند نہ کرتے تھےجہلم کو اللہ نے بہت صبر د ے رکھاتھا، وہ کافی عرصے سے یہ سارا تماشا خاموشی سے دیکھتا رہا اور انسان کی پھینکی ہوئی ساری گندگی کو اپنے اندر سماتا رہا، اب حالت یہ تھی کہ لوگوں نے اس کے خوبصورت کناروں پر بھی قبضہ کرلیا تھالیکن آخر کب تک؟ صبر اور برداشت کی بھی ایک حد ہوتی

ہےجہاں پہنچ کر سب کچھ ٹھہر جاتا ہے اور پھر شریروں کو منہ کی کھانا پڑتی ہے!
ابھی کل ہی کی بات ہے اس بستی کی ہر ایک شئے اپنی جگہ ٹھکانے پر صحیح سلامت موجودتھیلمبی اور کالی سڑکیں سڑکوں پر شور مچاتی ہوئی برق رفتار گاڑیاں کاروبار اور موج مستی، رنگ و رونق اور چہل پہل سے بھرے بازار، اونچی اور مہنگی دکانیں، دکانوں میں خریداری کرتے ہوئے مستانے لوگوں کی بھیڑ سکول، کالج، دفاتر اور ان میں چہچہاتے لوگوں کا میلہ میلے کی مستیاں اور مستی میں ڈوبے ہوئے دیوانے لوگمگر آج اچانک یہ کیا ہوگیا ہے؟یہ ساری فضاءکتنی خاموش ہےنہ ببلی کی میٹھی باتیں ہیںنہ ریاض، مہتاب اور امتیاز کی آوازیں، نہ گل شیر چچا کی نصیحتیں، نہ ویراں اور فاطمہ کے لوک گیت اور کہانیاں ہیں، نہ سبزیاں اور میوئے بانٹنے والے حاطم طائی جیسے لوگوں کا کوئی پتہ ہے ، نہ کھیتوں اور باغوں کی ہریالی ہے، نہ کارخانوں اور بازاروں کا شور شرابہ ہے، نہ وہ مہنگی دکانیں ہیں اور نہ ہی ان کا سودا کہیں دکھائی دیتا ہے، نہ اُن جھونپڑوں اور خیموں میں بسیرا کرنے والے فقیروں کی بستی کا کوئی پتہ ہے اور نہ ہی وہ محتاج و مجبور لوگ کہیں دکھائی دے رہے ہیں اور تو اور آج مستانے جہلم کا پانی بھی کتنا خاموش اور بے جان لگ رہا ہےنہ اس کی وہ موجیں باقی ہیں اور نہ ہی اس کاوہ پاگل پن!
یہ ہر جانب جھاڑو سے صاف کیا ہوا کوئی ریگستان یا ویرانہ ہے یا پھر میرا وہ حسین و جمیل وطنجس کو دُنیا ©’ جنتِ ارضی‘ کے نام سے جانتی تھی
میں نے اپنے آپ سے ایک اور سوال پوچھا ہی تھا کہ میرے کانوں میں پردہ پھاڑنے والی ایک اور بھاری بھرکم آواز گونجی
” ارے او چاچو ُ! تو کیا اتنی صبح صبح ایک مصروف ہائی وے پر دیوانہ بنا گھوم رہا ہے کوئی تیز رفتار گاڑی کچل کر نکل جائے گی اور کسی کو پتہ بھی نہ چلے گایہاں جہلم کے پانی نے پہلے ہی اس قدر تباہی مچا رکھی ہے کہ ہزاروں گھر بہہ گئے، بستیوں کی بستیاں ویران ہوگئیں، لاتعداد لوگوں کا کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے حاکم اور محکوم ایک ہی صف میں ماتم کُنا ں ہیں ایسے میں تیری لاش کو اُٹھانے کون آئے گا؟ © 

By Sahil Maqbool